ابنا: ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوزکو دئیے جانے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک 2010 کے سیلاب کے متاثرین کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں، لاتعداد متاثرہ گھرانے ابھی تک اپنے گھروں کو نہیں لوٹے اور خیموں و دیگر پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں انہوںنے مزید بتایا کہ گزشتہ برس سیلاب کے سبب پاکستان کی زرعی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جن بیرونی ممالک نے متاثرین سیلاب کی امداد کا وعدہ کیا تھا ، پور ا نہیں ہوا اور اتنے بڑے معاشی و قتصادی بحران کا سامناکرنا اکیلی حکومت پاکستان کے لیے ممکن نہ تھا اب حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب کے سبب یہ بحران اس قدر شدت اختیا ر کر چکا ہے کہ اس کی مثال پاکستان کی تاریخ مین نہیں ملتی ،انہوں نے کہا کہ ہم حکومت ایران کے انتہائی ممنون ہیںجس نے گزشتہ برس بھی متاثرین کی بحالی کے لیے امداد دینے میں پہل کی تھی تھی اور اس سال بھی متاثرین کی امداد میں پہلے نمبر پرہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے عظیم راہنما آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے خود سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے اپنی پریشانی اورہمدردی کا اظہار کیا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یوں تو پاکستان میں بد امنی کے بہت سے مسائل ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ پارا چنار کا ہے یہ علاقہ گزشتہ پانچ سالوں سے دہشت گردوں کے محاصرے میںہے اور وہاں اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، انہوںنے کہا کہ پارا چنار وہ علاقہ ہے جہاں شرح خواندگی اسلام آباد کے برابر ہے لیکن راستوں کی بندش کے سبب اب وہاں تعلیمی نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور طلبہ کا ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے.......
/169